Punjabi Wichaar
کلاسک
وچار پڑھن لئی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرو Preview Chanel
    



مُڈھلا ورقہ >> شاہ مُکھی وچار >> تاریخ دے پنے >> کتے کا گوشت

کتے کا گوشت

خواجہ غلام فرید: مقابیس المجالس
July 15th, 2012
5 / 5 (1 Votes)

مقبوس ۶۲بوقت ظہر بروز پنجشنبہ ۲۴ ذیعقد ۱۳۱۶ 
کتے کا گوشت گفتگو اس بارے میں شروع ہوئی کہ امام مالک کے نزدیک کتّے کا گوشت حلال ہے۔ حضرت اقدس [خواجہ غلام فرید] نے ایک عالم سے دریافت کیا کہ یہ معاملہ کس طرح سے ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ قبلہ میں نے یہ بات کسی فقہ کی کتاب میں نہیں دیکھی۔ آپ نے فرمایا کہ نفحات النفس میں کھا ہے کہ ایک دفعہ شیخ ابو عبداللہ حنیف سفر کے دوران شیخ ابو ذرعہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے کچھ گوشت پکا کر شیخ عبداللہ کے سامنے رکھا لیکن انہوں نے نہ کھایا۔ جب ان کو وداع کرکے سفر پر روانہ ہوئے تو راستہ بھول گئے اور صحرا میں چار دن تک کھانے کو کچھ نہ ملا۔ شیخ ابوعبداللہ نے اپنے اصحاب سے کہا کہ آؤ دعا مانگیں کہ خدا تعالی کوئی شکار عطا کرے۔ یہ کہنا تھا کہ ایک وہاں ایک کتا نمودار ہوا۔ چونکہ بھوک سے سب کی حالت خراب تھی انہوں نے کتے کو پکڑ کر ذبح کیا اور امام مالک کے مذہب کے مطابق اس کے ٹکڑے آپس میں بانٹ لئے۔ کتے کا سر حضرے عبداللہ کے حصے میں آیا۔ ۔۔۔۔۔اس کے بعد حضرت اقدس [خواجہ فرید] نے فرمایا کہ اگر امام مالک کے مذہب میں یہ اجازت نہ ہوتی تو مشائخ یہ باتیں کیوں کرتےاور کیوں لکھتے۔ مجبوری کی حالت میں حرام چیز کا گوشت کھانا تو تمام ائمہ کرام نے جائز قرار دیا ہے۔


Share |


 

Depacco.com


 

 

Your Name:
Your E-mail:
Subject:
Comments:


Support Wichaar

Subscribe to our mailing list
نجم حسین سیّد
پروفیسر سعید بُھٹا
ناول
کہانیاں
زبان

 

Site Best Viewd at 1024x768 Pixels