Punjabi Wichaar
کلاسک
وچار پڑھن لئی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرو Preview Chanel
    



مُڈھلا ورقہ >> شاہ مُکھی وچار >> کالم تے کالمسٹ >> وچارہ پنجاب (3)

وچارہ پنجاب (3)

حسن نثار
October 25th, 2014

پنجابی دے وچارے پن اُتے لکھے گئے پچھلے دو کالماں دا رسپانس بہت دلچسپ تے حیران کن رہیا۔ مینوں اینا اندازہ نہیں سی کہ جینوئین، پنجابی وی اندروں بری طرح زخمی تے تپے بیٹھے نیں۔ ایہہ کالم لکھن توں 5 منٹ پہلاں میں پنجابی دے اُچے اُگھے شاعر بابا نجمی دی فوج کال بھگتا کے فارغ ہویا واں پر ایتھے ایس گل دا ویروا محسوس ہوندا اے کہ ''پنجابی دی وچارگی'' نوں ہائی لائیٹ کرن دی ایس اکیڈیمک جیہی کوشش دا مقصد صرف ایہہ اے کہ پنجابی، پنجاب نوں تاریخی حوالے نال ویکھ کے ہر قسم دا معذرت خواہانہ رویہ چھڈن بارے غور کرن تے دوجے پاسے دوجے ''قوم پرست ٹائپ'' عناصر وی صرف سنی سنائیاں ہوائی گلاں دے مُڈھ تے غیر ضروری جارحیت تے تعصب چھڈ دین تاں جے ہر عمل دا رد عمل بہر حال ناگزیر ہوندا اے۔
ہاں جے کوئی دلیل ہے تے سر انکھاں گے۔ کدی غور کرو تے پتا لگے اصل پنجاب اینا امیرانہ نہیں اوہ تے بھکھے ننگے پنجابی نیںجیہڑے مزدوری دی تلاش وچ بلوچستان تک جا پہنچدے نیں تے فیر ایہناں دیاں لاشاں واپس آندیاں نیں۔ پنجاب دا اصل ذائقہ چکھنا ہوئے تے ایس خونخوار خبر تے غور کرو۔۔۔۔۔۔''لاہور فیم میٹرو بس کو سالانا ایک ارب 65 کروڑ روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔'' فیر ایس تے وی دھیان دو کہ مخصوص اربن سنٹر اں نوں چھڈ کے ہر تھاں مٹی اُڈ رئی اے۔ پنجابیاں (''پنج آب'' تے غور کرو) نوں پیون دا صاف پانی وی نہیں ملدا۔ ایس پنجاب دے کسان دا ٹاکرا بھارتی پنجاب دے کسان نال کیتا جاوے تے نیندر اُڈ جاوے تے جے آوے تے ڈراؤنے خواب نال لے کے آوے۔ بہر حال اگے ویکھو رامے ہوریں کیہ فرماندے نیں:
.......’’پنجاب کو نہ تو اس بات پر کوئی اختیار حاصل تھا کہ اس کی آبادی اس قدر زیادہ ہے اور نہ اس بات پر کہ یہ آبادی اپنے اندر محنت کرنے، ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک شعبہ سے دوسرے شعبہ میں منتقل ہو کر نئے سے نیا کام سیکھنے اور پھر کر گزرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ پنجاب کی اس صفت نے اسے چھوٹی سے چھوٹی نوکری سے لے کر اونچی سے اونچی ملازمت میں تعداد اور معیار کے لحاظ سے ممتاز کردیا۔ کام کے تنوع کے سلسلہ میں یہ لچک اور نقل مکانی کے سلسلے میں یہ آمادگی اگر پنجابیوں کے علاوہ کسی میں تھی تو پٹھانوں میں جو فوج اور ٹرانسپورٹ میں دلچسپی کے باعث گھروں سے دور آتے جاتے رہتے تھے۔ گو بنگالیوں اور بلوچوں کو بھی نقل و حرکت سے خاصی عار تھی لیکن سندھ کے مسلمانوں کا مقام اس سلسلہ میں بہت اونچا تھا۔ اگر کسی مسلمان سندھی اہلکار کا تبادلہ اس کے گائوں کے ساتھ والے گائوں ہو جاتا تھا تو اس کے گھر میں باقاعدہ صف ماتم بچھ جاتی تھی اور سمجھا جاتا تھا کہ وہ پردیس جارہا ہے۔ وہ عقیدے کی حد تک قائل تھے کہ دریا کو عبور کرنا اور سمندر کا سفر اختیار کرنا ان کیلئے نامبارک ہے (بہتر ہوتا اگر حنیف رامے صاحب مرحوم و مغفور تاریخ میں اس رویے کی جڑوں کی نشان دہی بھی فرما دیتے کہ سمندری سفر نامبارک سمجھے جانے کا پس منظر کیا ہے کیونکہ محمد بن قاسم تو آیا ہی سمندری راستے سے تھا)ملازمتوں اور نوکر شاہی کے سلسلے میں ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ قیام پاکستان کے وقت لاکھوں مسلمان اہلکار ان صوبوں سے پاکستان چلے آئے تھے جو ہندوستان میں رہ گئے۔ خاص طور پر یو پی کے اردو بولنے والے اہل کاروں کی اس قدر بہتات تھی کہ انہیں مشرقی بنگال تک میں تعینات کرنا پڑا تھا۔ نوکر شاہی کے روایتی رویوں کی بنیاد پاکستان میں انہی اہل کاروں نے رکھی تھی جنہیں اردو زبان کے ناتے بعد میں پنجابی اہلکاروں نے بھی اپنا لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پنجاب نے اپنی آبادی کے اعتبار سے ملازمتوں میں اپنا حصہ بٹانا شروع کردیا۔ چونکہ مہاجر اور پنجابی اہلکار، دونوںہی اردوبولتے تھے اس لئے اردو بولنے والا ہر اہل کار دوسرے صوبوں کے عوام کی نظر میں پنجابی قرار پا گیا اور یوں فوج کی طرح نوکر شاہی کو بھی پاکستان کی بجائے پنجاب سے منسوب کردیا گیا۔ یہی صورت حال زراعت اور صنعت کے میدانوں میں سامنے آئی۔ ہر جگہ جا کر رزق کمانے پر آمادہ، مشکل سے مشکل کام کرنے پر تیار اور ہر طرح کے مقام پر اور ہر طرح کے کام میں درپیش حالات کا سامنا کر گزرنے والے پنجابیوں نے نہ صرف اپنے صوبوں میں زراعت کو ترقی دی بلکہ سندھ اور بلوچستان میں جا جا کر وہاں کے کنوارے کھیتوں میں بھی ہل جوت دیئے۔صنعت کے دائرے میں بھی پنجابی اسی طرح آگے بڑھے۔جہاں انہوں نے لائل پور (فیصل آباد) میں کپڑے کی صنعت قائم کی وہاں پنجابی سرمایہ کاروں نے کراچی میں بھی کارخانے لگانا شروع کردیئے۔ آج اگر سندھ بالخصوص کراچی میں پورے پاکستان کی 70 تا 75 فیصد صنعت مرکوز ہے تو اس میں پنجاب کے سرمایہ کار کا بھی بہت حصہ اور ہاتھ ہے۔ بیشک بھارت سے اردو سپیکنگ سوداگروں اور میمن بوھرہ برادریوں نے آکر کراچی میں کچھ روپیہ لگایا لیکن آج پاکستان کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں کی صف میں پنجابی خصوصاً چنیوٹی سرمایہ کاروں نے اس حد تک نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے کہ کئی سرکردہ میمن اور بوھرہ سیٹھ بھی ان کی طرف رشک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں‘‘
پنجاب دی وچارگی دا خلاصہ تے مڈھلے طور تے صرف تے صرف اینا ای اے کہ ۔۔۔۔۔۔ سوہنا مُکھ وی کنی بھیڑی شے اے جیہنے ویکھیا بھیڑا ای ویکھیا (چلدا)
(شکریہ: روز نامہ جنگ)


Share |


 

Depacco.com


 

 

Your Name:
Your E-mail:
Subject:
Comments:


Support Wichaar

Subscribe to our mailing list
نجم حسین سیّد
پروفیسر سعید بُھٹا
ناول
کہانیاں
زبان

 

Site Best Viewd at 1024x768 Pixels